10 اکتوبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے کہا ہے کہ افغانستان پر امریکی حملے کو گیارہ سال مکمل ہونے کے باوجود امریکہ اور نیٹو اس ملک میں پھنس گئے ہیں۔

ابنا: جناب علاءالدین بروجردی نے ایران کی پارلیمنٹ نیوز سے انٹرویو میں کہا کہ امریکی فوجی ، طالبان کو ختم کرنے کے بہانے افغانستان آگئے لیکن انہوں نے علاقے میں دہشتگردی کو مزید فروغ دے دیا اور آج نہ صرف طالبان پہلے سے زیادہ طاقتور ہے بلکہ پاکستانی طالبان بھی معرض وجود میں آیاہے ۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ افغانستان کے غیور عوام اپنے ملک میں غیرملکی افواج کی موجودگی کا متحمل نہیں ہوسکتے مزید کہا کہ نیٹو افواج کی افغانستان میں موجودگی کے لئے تمام تر دباؤ اور سیاسی کوششوں کے باوجود افغان عوام اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کو رہنے نہیں دیں گے۔ گذشتہ گیارہ برسوں کے دوران افغانستان میں بہت زیادہ غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جس سے اس طولانی ترین جنگ میں امریکہ کی تاریخی شکست کا پتہ چلتا ہے ۔ مغربی حلقوں نے بھی اپنے جائزوں میں افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی کارکردگی کو شکست خوردہ قرار دیا ہے اور تاکید کی ہے کہ افغانستان پر قبضہ کرتے وقت، امن  کا قیام، دہشتگردی کے خاتمے اور اس ملک کی اقتصادی مشکلات حل کرنے پر مبنی امریکہ کے جھوٹے وعدے، نہ صرف پورے نہیں ہوئے ہیں بلکہ افغانستان اور زیادہ پیچیدہ مسائل و مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے اور اس وقت اس ملک کو نہ صرف تشّدد اور دہشتگرد گروہوں کا سامنا ہے بلکہ وہ منشیات کی پیداوار میں بھی پہلے نمبر پر جاکھڑا ہوا ہے اور یہی پیداوار بہت سے گروہوں کی آمدنی کا ذریعہ بھی بنی ہوئی ہے ۔ گذشتہ ایک مہینے کے دوران افغانستان میں اس ملک کی پولیس اور یا اس کے لباس میں، امریکی و نیٹو فوجیوں پر ہونے والے حملوں میں  متعدد غیرملکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ مسئلہ، افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی گہری تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مغربی حلقے افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں پر ہونے والے حملوں میں حقاّنی گروہ کے ہاتھہ کارفرما ہونے کا دعوی کرکے دو اہم مقاصد کے درپے ہیں۔ پہلے یہ کہ وہ افغانستان میں طالبان سے زیادہ سکیورٹی کے مسائل کو لوز پوائنٹ قرار دے رہے ہیں تاکہ اس طرح سے افغانستان پر قبضہ جاری رکھنے کا جواز پیدا کیا جاسکے اور دوسرے یہ کہ پاکستان اور خاصطور سے آئی ایس آئی کو حقانی گروپ کی حمایت الزام لگا کر اس پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے دفاعی امور کے ماہر اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف ریٹائرڈ جنرل مرزا اسلم بیگ افغانستان پر امریکہ کے گیارہ سالہ قبضے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ امریکہ اس وقت افغانستان سے نکلنے کی لئے محفوظ راستے کی تلاش میں ہے اور اس کو نکل جانا ہے چاہیے ورنہ اس کے لئے مزید مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔بہرحال جیساکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے کہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو اس ملک میں پھنس گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ افغانستان کے غیور عوام اپنے ملک میں غیرملکی افواج کی موجودگی کا متحمل نہیں ہوسکتے مزید کہا کہ نیٹو افواج کی افغانستان میں موجودگی کے لئے تمام تر دباؤ اور سیاسی کوششوں کے باوجود افغان عوام اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کو رہنے نہیں دیں گے۔

.....

/169